زکوٰۃ اسلام کا اہم رکن ہے اور نماز کے بعد زکوٰۃہی کا درجہ ہے۔ قرآنِ کریم میں ایمان کے بعد نماز اور اس کے ساتھ ہی جا بجا زکوٰۃ کا ذکر کیا گیاہے۔ زکوٰۃ کے لغوی معنی پاک ہونا، بڑھنا اور نشوونما پانا کے ہیں۔ یہ مالی عبادت ہے۔ یہ محض ناداروں کی کفالت اور دولت کی تقسیم کا ایک موزوں ترین عمل ہی نہیں بلکہ ایسی عبادت ہے جو قلب او رروح کا میل کچیل بھی صاف کرتی ہے۔
انسان کو اللہ کا مخلص بندہ بناتی ہے۔ نیز زکوٰۃ اللہ کی عطا کی ہوئی بے حساب نعمتوں کے اعتراف اور اس کا شکر بجا لانے کا بہترین ذریعہ ہے۔ زکوٰۃ کی ادائیگی ایک مسلمان کو یاد دلاتی ہے کہ جو دولت وہ کماتا ہے وہ حقیقت میں اس کی ملکیت نہیں بلکہ اللہ پاک کی دی ہوئی امانت ہے۔ یہ احساس اسے معاشی بے راہ روی سے بچاتا ہے اور اس کے تمام اعمال کو احکامِ الٰہی کے تابع کرتا ہے۔
نبی اکرمﷺ کے ارشاد کے مطابق معاشی معاملات دین کا ایک حصہ ہیں۔ جب انسان دولت جیسی نعمت اللہ تعالیٰ کے حکم پر خرچ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ایثار کی قدر کرتا ہے اور اس کے خرچ شدہ مال کو اپنے ذمہ قرض قرار دیتا ہے۔ اور وہ وعدہ فرماتا ہے کہ بندے کا یہ قرض وہ کئی گنا بڑھا کر واپس کرے گا۔ زکوٰۃکے نظام سے دولت کا ایک دھارا امیر طبقے سے غریب طبقے کی جانب مڑجاتا ہے جس سے غریب کی معاشی حالت بہتر ہو جاتی ہے۔معاشرے میں دولت کی وہی حیثیت ہوتی ہے جو انسانی جسم میں خون کی۔ اگر یہ سارا خون دل میں (یعنی مالدار طبقے ) میں جمع ہو جائے تو پورے اعضائے جسم (یعنی عوام) کو مفلوج کر دینے کے ساتھ ساتھ خود دل کے لئے بھی مضر ثابت ہو گا۔ اگر ایک طرف مفلس طبقہ ناداری کے مصائب سے دوچار ہو گا تو دوسری طرف صاحب ثروت طبقہ دولت کی فراوانی سے پیدا ہونے والے اخلاقی امراض مثلاً عیاشی اور فکرآخرت سے غفلت کا شکار ہو جائے گا۔ ظاہر ہے ایسی صورت میں ان دونوں طبقوں میں حسد اور حقارت کے علاوہ کوئی رشتہ باقی نہیں رہے گا۔
زکوٰۃ کی اہمیت و افادیت قرآن و حدیث میں جگہ جگہ وارد ہوئی ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں تقریباً بیاسی جگہ نمازکے ساتھ زکوٰۃکا حکم فرمایا ہے اور جہاں علیحدہ زکوٰۃ کا حکم فرمایا ہے وہ جگہیں اِن کے علاوہ ہیں،اسی طرح زکوٰۃ ادا کرنے پر قرآن و حدیث میں جہاں بے شمار فضائل اور وعدے مذکور ہوئے ہیں، تو وہیں زکوٰۃ ادا نہ کرنے پر بھی قرآن و حدیث میں بے شمار وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔
زکوٰۃ کی اہمیت و افادیت کے متعلق قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’ اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو!‘‘(سورۃ البقرۃ: 43)دوسری جگہ فرماتے ہیں: ’’ترجمہ: میں اپنی رحمت اُن لوگوں کے لئے لکھوں گا جو تقویٰ اختیار کریں اور زکوٰۃ ادا کریں اور جو ہماری آیتوں پر ایمان رکھیں۔‘‘ (سورۃ الاعراف: 156)ایک اورجگہ فرماتے ہیں : ’’ترجمہ:اور جو زکوٰۃ تم اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے ارادے سے دیتے ہو، تو جو لوگ بھی ایسا کرتے ہیں، وہ ہیں جو (اپنے مال کو) کئی گنا بڑھا لیتے ہیں۔‘‘(سورۃ الروم: 93)۔
اسی طرح حضورنبی اکرمﷺارشاد فرماتے ہیں: ’’جو بندہ پانچوں وقت کی نماز پڑھتا ہے، رمضان کے روزے رکھتا ہے۔،زکوٰۃ ادا کرتا ہے۔کبیرہ گناہوں سے بچتا ہے تو اُس کے لئے جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور اُس سے کہا جاتا ہے کہ تو جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجا!‘‘ (سنن نسائی:2438)۔ حضورِ اکرمﷺنے بھی زکوٰۃ ادا نہ کرنے والے لوگوں کے بارے میں بڑی سخت وعیدیں ارشاد فرمائی ہیں۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشارفرمایا کہ: ’’جو شخص سونے چاندی کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا ، تو اُس کے مال کی تختیاں بناکر قیامت کے دن اُس شخص کی پیشانی اور پہلوؤں کو داغا جائے گا جب یہ تختیاں ٹھنڈی ہوجائیں گی تو پھر اُنہیں گرم کیا جائے گا اور قیامت کے پچاس ہزار برس والے پورے دن میں اُس کو یہی عذاب ہوتا رہے گا۔‘‘ (صحیح مسلم:987،المعجم الاوسط للطبر ا نی : 8945)۔
زکوٰۃ کی بہترین صورت یہ ہے کہ اموال میں حق معلوم اور حصہ مقرر ہو، یا شرع اس کی تحدید و تعین کرے۔انسان کے اموال و املاک میں بنیادی چیزیں یہ ہیں،نقدین (سونا چاندی)مویشی،اشیائے تجارت، اورزراعت اور کھیتی باڑی۔ان اموال میں نصاب کا تعین بھی ضروری ہے جس کی مقدار اتنی قلیل بھی نہ ہو جس کے نکالنے میں تکلیف و حرج ہواور نہ اتنی زیادہ ہو کہ لوگوں کے پاس اس مقدار کے نصاب کا اکٹھا ہو جانا بہت نادر ہو۔
اسی طرح میعاد کا بھی خیال رکھنا چاہئے، اس میں بھی اوسط میعاد ملحوظ رکھنی ہو گی۔ یہ سب کچھ اس لیے ضروری ہے کہ صاحبِ مال سے زکوٰۃ لینے کا کام آسان ہو جائے اور اس کے فوائد زیادہ سے زیادہ رہیں۔ (البدور البازغۃ(مترجم ):ص803)
علمائے کرام نے لکھا ہے کہ جس شخص کے پاس ساڑھے باون تولے چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونا ہو ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر روپیہ ہو۔ اور ایک سال تک باقی رہے تو سال گزرنے پر اس کی زکوٰۃ دینا واجب ہے اور اگر اس سے کم ہو تو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں۔ اور اگر اس سے زیادہ ہو تو بھی زکوٰۃ واجب ہے۔اگر کسی کے پاس آٹھ تولہ سونا چار مہینے یا چھ مہینے تک رہا پھر وہ کم ہو گیا اور وہ تین مہینے کے بعد ملے گا تب بھی زکوٰۃ دینا واجب ہے غرضیکہ جب سال کے اول و آخر میں مالدار ہو جائے اور سال کے بیچ میں کچھ دن اس مقدار سے کم رہ جائے تو بھی زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔ بیچ میں تھوڑے دن کم ہو جانے سے زکوٰۃ معاف نہیں ہوتی البتہ اگر سب مال جاتا رہے اس کے بعد پھر مال ملے تو جب سے پھر ملا ہے تب سے سال کا حساب کیا جائے گا۔
اسی طرح کسی کے پاس آٹھ نو تولہ سونا تھا لیکن سال گزرنے سے پہلے پہلے جاتا رہا ،پورا سال نہیں گزرنے پایا تو زکوٰۃ واجب نہیں۔کسی کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت ہے۔ اور اتنے ہی روپوں کا وہ قرض دار ہے تو بھی زکوٰۃ واجب نہیں۔ اگر اتنے کا قرض دار ہے کہ قرضہ ادا ہو کر ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت بچتی ہے تو زکوٰۃ واجب ہے۔
سونے چاندی کے زیور اور برتن وغیرہ سب پر زکوٰۃ واجب ہے۔ چاہے پہنے جاتے ہو ں یا بند رکھے ہوں ۔ غرضیکہ چاندی و سونے کی ہر چیز پر زکوٰۃ واجب ہے۔ البتہ اگر اتنی مقدار سے کم ہو جو اوپر بیان ہوئی تو زکوٰۃ واجب نہ ہو گی۔
کسی کے پاس نہ تو پوری مقدار سونے کی ہے نہ پوری مقدار چاندی کی بلکہ تھوڑا سونا ہے اور تھوڑی چاندی تو اگر دونوں کی قیمت ملا کر ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو جائے یا ساڑھے سات تولہ سونا کے برابر ہو جائے تو زکوٰۃ واجب ہے اور اگر دونوں چیزیں اتنی تھوڑی تھوڑی ہیں کہ دونوں کی قیمت نہ اتنی چاندی کے برابر ہے نہ اتنے سونے کے برابر تو زکوٰۃ واجب نہیں اور اگر سونے اور چاندی دونوں کی مقدار پوری پوری ہے تو قیمت لگانے کی ضرورت نہیں۔
گھر کا اسباب جیسے پتیلی ،دیگچی ،دیگ ،کھانے پینے کے برتن اور رہنے سہنے کا مکان اور پہننے کے کپڑے وغیرہ ان چیزوں پہ زکوٰۃ واجب نہیں چاہے ۔ ہاں اگر سوداگری کا اسباب ہو تو پھر اس پہ زکوٰۃ واجب ہے۔ خلاصہ یہ کہ سونے چاندی کے سوا اور جتنا مال اسباب ہو اگر وہ سوداگری کا اسباب ہے تو زکوٰۃ واجب ہے، نہیں تو اس پہ زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔
کسی کے پاس دس پانچ گھر ہیں، وہ ان کو کرایہ پر چلاتا ہے تو ان مکانوں پر بھی زکوٰۃ واجب نہیں چاہے جتنی قیمت کے ہوں۔ ایسے ہی اگر کسی نے دوچار سو روپے کے برتن خرید لیے اور ان کو کرایہ پر دیتا ہو تو اس پر بھی زکوٰۃ واجب نہیں غرضیکہ کرایہ پر چلانے سے مال میں زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی۔
پہننے کے جوڑے وغیرہ چاہے جتنے زیادہ قیمتی ہوں ان پہ زکوٰۃ واجب نہیں لیکن اگر ان میں سچا کام ہے اور اتنا کام ہے کہ اگر چاندی چھڑائی جائے تو ساڑھے باون تولہ یا اس سے زیادہ نکلے گی تو اس چاندی پر زکوٰۃ واجب ہے اور اگر اتنا نہ ہو تو زکوٰۃ واجب نہیں۔ کسی کے پاس کچھ چاندی یا سونا ہے اور کچھ سوداگری کا مال ہے تو سب کو ملا کر دیکھو اگر اس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونے کے برابر ہو جائے تو زکوٰۃ واجب ہے اور اگر اتنا نہ ہو تو واجب نہیں۔
سوداگری کا مال وہ کہلائے گا جس کو اسی ارادہ سے مول لیا ہو کہ اس کی سوداگری کریں گے تو اگر کسی نے اپنے گھر کے خرچ کے لیے یا شادی وغیرہ کے خرچ کے لیے چاول مول لیے، پھر ارادہ ہو گیا کہ لاؤ اس کی سوداگری کر لیں تو یہ مال سوداگری کا نہیں ہے اور اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔ اگر کسی پر تمہارا قرض آتا ہے تو اس قرض پر بھی زکوٰۃ واجب ہے لیکن قرض کی تین قسمیں ہیں ۔
ایک یہ کہ نقد روپیہ یا سونا چاندی کسی کو قرض دیا یا سوداگری کا اسباب بیچا اس کی قیمت باقی ہے اور ایک سال کے بعد یا دو تین برس کے بعد وصول ہوا تو اگر اتنی مقدار ہو جتنی پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے تو ان سب برسوں کی زکوٰۃ دینا واجب ہے اور اگر یکمشت نہ وصول ہو تو جب اس میں گیارہ تولہ چاندی کی قیمت وصول ہو تب اتنے کی زکوٰۃ ادا کرنا واجب ہے اور اگر گیارہ تولہ چاندی کی قیمت بھی متفرق ہی ہو کر ملے تو جب بھی یہ مقدار پوری ہو جائے اتنی مقدار کی زکوٰۃ ادا کرتی رہے اور جب دے تو سب برسوں کی دے اور اگر قرضہ اس سے کم ہو تو زکوٰۃ واجب نہ ہو گی البتہ اگر اس کے پاس کچھ اور مال بھی ہو اور دونوں ملا کر مقدار پوری ہو جائے تو زکوٰۃ واجب ہو گی۔
اگر کوئی مالدار آدمی جس پر زکوٰۃ واجب ہے سال گزرنے سے پہلے ہی زکوٰۃ دے دے اور سال کے پورے ہونے کا انتظار نہ کرے تو یہ بھی جائز ہے اور زکوٰۃ ادا ہو جاتی ہے اور اگر مالدار نہیں ہے بلکہ کہیں سے مال ملنے کی امید تھی اس امید پر مال ملنے سے پہلے ہی زکوٰۃ دے دی تو یہ زکوٰۃ ادا نہیں ہو گی۔ جب مال مل جائے اور اس پر سال گزر جائے تو پھر زکوٰۃ دینا چاہیے۔مالدار آدمی اگر کئی سال کی زکوٰۃ پیشگی دے دے یہ بھی جائز ہے لیکن اگر کسی سال مال بڑھ گیا تو بڑھتی کی زکوٰۃ پھر دینا پڑے گی۔
سال پورا ہونے کے بعد کسی نے اپنا سارا مال خیرات کر دیا تب بھی زکوٰۃ معاف ہو گئی۔کسی کے پاس دو سو روپے تھے ایک سال کے بعد اس میں سے ایک سو چوری ہو گئے یا ایک سو روپے خیرات کر دیئے تو ایک سو کی زکوٰۃ معاف ہو گئی فقط ایک سو کی زکوٰۃ دینا پڑے گی۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے دینی فرائض اور احکامات نبھانے اور ان پہ عمل پیرا ہونے کی مکمل توفیق عطا فرمائے۔آ مین





